دہرادون،4؍مارچ (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا )کشمیری طلباء کے ایک تنظیم نے اتوار کو یہاں کہا کہ اتراکھنڈ میں ان کی زندگی کو اب کوئی خطرہ نہیں ہے۔ پلوامہ دہشت گردانہ حملہ میں مرکزی ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے 40 سے زائد جوانوں کی ہلاکت کے بعد اتراکھنڈ میں مقیم کشمیری طلباء میں عدم تحفظ کا احساس گھر کر گیا تھا ۔ واقعہ کے بعد خاص طور سے بھگوا تنظیموں کی جانب سے حملہ اور تشدد کے خدشہ سے خوفزدہ کافی تعداد میں کشمیری طالب علم اپنے گھر بھی کوچ کرگئے ۔ کشمیری اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے ترجمان نصیر خوئے حامی نے بتایا کہ : ’اتراکھنڈ میں اب صورت حال عمومی ہے اور ریاست میں کہیں بھی کشمیری طلباء کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ میں طلباء سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ واپس لوٹ آئیں اورپھر سے اپنی تعلیم کا آغاز کریں ۔طلباء رہنمانے اتراکھنڈ کے پولیس ڈائریکٹر، دہرادون کی سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ نویدتا اور میڈیا کو کشمیری طلباء کی حمایت میں آگے آنے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے شکریہ بھی ادا کیا ۔ انہوں نے ’خالصہ ایڈ‘ نام کی تنظیم کا بھی شکریہ ادا کیا جس نے طلباء کو باہر نکالنے میں مدد کا ہاتھ بڑھایا۔طلباء لیڈر نے کہا کہ : ’کشیدگی اب کم ہو گئی ہے ، وادی کے طلباء سے بات کر رہے ہیں اور ان کو یقین دہانی کررہے ہیں کہ:’وہ واپس اپنے ہاسٹل واپس آجائیں اور بغیر کسی خوف کے پڑھائی شروع کریں۔ایک نجی یونیورسٹی میں پڑھنے والے ایک کشمیری طالب علم کے پلوامہ دہشت گرد واقعہ پر مبینہ طور پر خوشی جتانے والا مبینہ واٹس ایپ پیغام اپنے دوستوں کو بھیجے جانے سے اتراکھنڈ میں حالات کشیدہ ہو گئی تھی۔ مقامی طلباء کی طرف سے اس پر سخت رد عمل کا اظہار کیا گیا اور انہوں نے کالج سے کشمیری طلباء کو باہر کرنے کا ’احمقانہ ‘ مطالبہ کیا تھا ۔